ابنا: اسلام دین فطرت ہے اور مرسل اعظم ص نے دین اسلام کے ذریعے ہی توحید کے بھولے ہوئے پیغامات کو دہرایا، جس کی حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر خاتم النبیین مرسل اعظم ص تک تمام الہی نمائندوں نے تبلیغ و ترویج کی ہے۔ اچھائی کی نصیحت برائی کی ممانعت، خدا اور اس کے اولیائ سے عقیدت و محبت کے عنوانات سے ایک کامل منصوبہ اللہ کا ہی تیار کیا ہوا ہے۔ اسلامی اعتقادات، عبادات اور معاملات سب انسانی فطرت پر مبنی ہیں۔ اسلام کی تعلیمات آسان فہم ہیں وقت کے ساتھ ساتھ ان تعلیمات کی تعبیریں بدلتی ہیں کیونکہ ہر وقت کی اپنی اپنی ضروریات ہوتی ہیں۔ اسلام روز ازل سے ہی آزادی اظہار و رائے کا قائل ہے اور اسلام ببانگ دہل ”لا اکراہ فی الدین“ کا اعلان کرتا ہے۔ آنحضور ص نے بھی اتحاد امت، وحدت انسانی اور مساوات پر بہت زور دیا ہے۔ حضرت علی ع، تمام آئمہ، شیعہ مراجع تقلید اور ممتاز شیعہ قیادت نے بھی تفرقہ اندازی کی مذمت کی ہے۔
کیرن آرم سٹرانگ اپنی کتاب ”خدا کی تاریخ “میں بیان کرتی ہیں:جب ایک عیسائی ورقہ بن نوفل نے حضرت محمد ص کو ایک سچّے رسول کی حیثیت سے تسلیم کیا تو نہ اس نے اور نہ ہی حضرت محمد ص نے یہ توقع کی کہ وہ مذہبِ اسلام قبول کر لے۔ حضرت محمد ص نے یہودیوں یا عیسائیوں سے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ ان کے اللہ کے مذہب کو قبول کر لیں سوائے ان کے، جنھوں نے خود ان سے درخواست کی، کیوں کہ ان کے پاس وحءالٰہی کے حامل اپنے پیغمبر تھے۔ قرآنِ پاک میں بھی الہام کا مطلب پیش رو پیغمبروں پر ہونے والے الہام اور وحی کو مسترد کرکے اپنا پیغام دینا نہیں، بلکہ اِس کے بجائے اِس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسانوں کے مذہبی تجربات میں ایک تسلسل پایا جاتا ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے کہ ہم اِس نقطے پر غور کریں کہ مغرب کے اکثر لوگ اِس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اسلام دیگر ادیان سے موافقت نہیں کرتا اور ان سے بنا کر نہیں رکھتا، حالاں کہ ایسا نہیں ہے اور مسلمان ابتدا ہی سے یہودیوں اور عیسائیوں کی بہ نسبت وحی کو صرف اپنے پیغمبر تک محدود نہیں سمجھتے تھے۔
اسلام امن و سلامتی اور بھائی چارے کا دین ہے۔ یہ اپنے ماننے والوں کو اخوت، برابری، بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ نبی آخر الزمان نے بارہا مسلمانوں کو پیار، محبت اور امن و امان سے زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ ہمارے اس بیان کی تائید یہ حدیث مبارکہ کرتی ہے:
مسلمان وہ ہے محفوظ رہیں تمام مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے۔
مدینہ میں رہنے والے قبائل عرصہ دراز سے ایک دوسرے سے اختلاف و جھگڑا رکھتے تھے اور یہودیوں نے ان کے اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پر سیاسی غلبہ و تسلط حاصل کر لیا تھا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مدینہ منورہ ہجرت کرنے اور لوگوں کی قیادت و رہبری قبول کرنے کے بعد ان کے درمیان اخوت و برادری کا معاہدہ قائم کیا۔
ڈاکٹر محمد حسین ہیکل نے اپنی کتاب ”حیات پیغمبر“ میں لکھا ہے:یہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی کا نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے، جس کی نظیر گزشتہ انبیاءکے یہاں نظر نہیں آتی۔ انھوں نے اپنے دوستوں اور ساتھیوں سے مشورہ کیا اور سب سے پہلا موضوع جس پر آپ نے توجہ فرمائی یہ تھا کہ تمام مسلمانوں کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔
حسین ہیکل مزید لکھتے ہیں:”اگر ہم اس بات کو مد نظر رکھیں کہ منافقوں نے قبائل اوس، خزرج اور مہاجر و انصار کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کس قدر کوششیں کیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ پیغمبر اکرم ص نے اس سلسلہ میں کس قدر دقت نظر، حسن ظن اور دور اندیشی سے کام لیا تھا“۔
”تم سب اللہ کی رسی (قرآن و اسلام و تمام وسائل اتحاد) مضبوطی سے پکڑے رہو اور متفرق و پراگندہ نہ ہو اور خدا کی اس نعمت کو یاد کرو کہ کس طرح تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اس نے تمھارے دلوں میں محبت پیدا کر دی اور اس نعمت کی برکت سے تم ایک دوسرے کے بھائی ہو گئے۔ تم آگ کے گڑھے کے دہانے پر تھے کہ خدا نے تمھیں اس سے نجات عطا کر دی“۔(عمران: ۱۰۳)
کہو ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور جو کچھ ہم پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد پر اتارا گیا ہے اور جو کچھ موسٰی اور عیسٰی اور جملہ انبیاء(علیہم السلام) کو ان کے رب کی طرف سے عطا کیا گیا ہے (سب پر ایمان لائے ہیں)، ہم اِن میں سے کسی پر بھی ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے لیے اسلام لائے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں ارشاد فرماتے ہیں :گزشتہ امتیں جب تک باہم اور متحد تھیں پیہم ترقی کی راہ پر گامزن تھیں اور عزت و اقتدار اور زمین کی خلافت و وراثت سے ہمکنار رہیں اور دنیا والوں کی رہبر اور ان پر حاکم رہیں۔ لیکن جب انھوں نے خدا کو فراموش کر دیا، مادیات کی طرف مائل ہوئے، احساس برتری، قومی و فرقہ وارانہ انتشار و پراگندگی کا شکار ہو گئے، آپس میں لڑنے لگے تو خدا وند عالم نے عزت و بزرگی اور خلافت کا لباس ان کے جسم سے اتار لیا۔ خیر و برکت اور نعمتوں کی فروانی ان سے سلب کر لی اور ذلت و غلامی میں انھیں مبتلا کر دیا۔ مثال کے طور پر کسریٰ و قیصر بنی اسرائیل میں تفرقہ کی وجہ سے ان پر مسلط ہو گئے۔ انھیں اپنا غلام بنا لیا اور آباد زمینوں اور دجلہ و فرات کے سر سبز و شاداب علاقوں سے نکال کر بیابانوں اور بے آب و گیاہ علاقوں میں دھکیل دیا اور انھیں ذلت و فقر، جہالت و انتشار سے دو چار کر دیا۔ خدا وند عالم نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اسلام جیسی نعمتوں کے ذریعہ اولاد اسماعیل ع اور تمام مسلمانوں کو متحد اور بھائی بھائی بنا دیا، انھیں بزرگی عطا فرمائی، اپنی عطاو¿ں کی نہریں ان کی طرف جاری کیں۔ انھیں نعمت طاقت، عزت و عظمت عطا فرمائی، ایسی پایدار حکومت انھیں نصیب کی کہ کسی کو اسے شکست دینے کی طاقت نہ تھی۔ افسوس ایسی باشکوہ ہجرت کے بعد مسلمان مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم ہو گئے۔
اتحاد بین المسلمین کے لیے آیت اللہ سید حسین بروجردی اور دیگر اکابر علماءنے ادارہ تقریب بین المذاہب الاسلامیہ بنایا اور امت کے اتحاد کے لیے گراں قدر کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔ اس ادارے نے تمام مسالک کو باہم قریب لانے کے لیے”الرسالہ“ کے نام سے ایک مجلہ کا اجرا کیا۔ آیت اللہ سید حسین بروجردی نے اتحاد بین المسلمین کے لیے بہت مفید عملی اقدامات کیے۔اسی طرح جامعہ الازہر کے سابق سربراہ مفتی اعظم شیخ محمد شلتوت نے جو دنیائے اہل سنت کے سب سے بڑے مرکزِ علم کے سربراہ تھے، شیعہ مذہب کو دنیائے اسلام کے تمام مکاتب فقہ میں سے ایک فقہی مکتب کے عنوان سے تسلیم کیا۔ جامعہ الازہر میں فقہ جعفریہ کی تدریس شیخ شلتوت ہی کے دور میں شروع ہوئی۔ جس کے نتیجے میں پورے عالم میں اس کے غیرمعمولی اثرات مرتب ہوئے۔
اتحاد بین المسلمین میں آیت اللہ شیخ جعفر کاشف الغطائ کی خدمات بھی لائق تحسین ہیں۔ امت کے اتحاد و یگانگت کے لیے سید جمال الدین افغانی کا کردار بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ جمال الدین افغانی کے شاگرد محمد عبدہ اور برصغیر کی دو ممتاز شخصیات امت کے اتحاد و بھائی چارے کے لیے ہمہ تن مصروف عمل رہیں۔ علامہ محمد اقبال کا یہ شعر ان کی امت مسلمہ کے اتحاد کی نیک تمناو¿ں کی بجا تصویر پیش کرتا ہے۔
ایک ہوں مسلم ہرم کی پاسبانی کے لیے - نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر
اسی طرح علامہ محمد اقبال امت کو اتحاد و اتفاق کی تلقین کرتے ہوئے کہتے ہیں:
منفعت ایک ہے اس قوم کی نقصان بھی ایکایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایکفرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیںکیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
اسی طرح قائد اعظم محمد علی جناح نے شیعہ فقہ سے تعلق رکھنے کے باوجود تمام مسلمان قوم کے لیے الگ وطن کا مطالبہ کیا اور اسے سچ کر دکھایا۔ تحریک پاکستان کے دوران ایک موقع پر تاج برطانیہ نے مسلمانوں میں فرقہ واریت کا آغاز کروانا چاہا، اس سازش کو قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی فراست و دور اندیشی کی بنا پر مکمل نہ ہونے دیا اور قائداعظم کی دعوت پر آیت اللہ زنجانی نے برصغیر کا دورہ کیا اور امت کو باہم متحد رہنے کی تلقین کی۔
امام خمینی رہ کی قیادت میں 20ویں صدی کا عظیم الشان معجزہ ایران کا انقلاب اسلامی 11 فروری 1979ئ کو رونما ہوا جسے ”انفجار نور“ قرار دیا گیا۔ اس اسلامی انقلاب کی لیبیا کے صدر معمر قذافی نے تائید کی، جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ امت مسلمہ دراصل ایک اکائی ہے، تھوڑے بہت اختلافات کو بنیاد بنا کر انتشار اور منافرت پھیلانا قطعی درست اقدام نہیں ہے۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات برادرانہ تعلقات قیام پاکستان کے بعد سے ہی استوار ہیں، اگرچہ ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد ان تعلقات میں مغرب کی وجہ سے رخنہ ڈالا گیا، مگر دونوں اطراف کی عوام، علماءاور سیاست دان ہر مشکل گھڑی میں یک جان دو قالب نظر آتے ہیں۔
ایران کے انقلاب اسلامی کے سپریم لیڈر امام خمینی رہ امت مسلمہ کی حالت زار میں بہتری لانے کے لیے شبانہ روز مصروف رہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کسی ایک خاص مکتب فکر کے لیڈر نہیں تھے بلکہ ان کی سوچ اور فکر کا تعلق تمام امت سے ہے اور وہ عالمی سیاست پر بھی کڑی نگاہ رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے امت کو جوڑنے کے لیے ہفتہ وحدت کی بنیاد رکھی۔ شیعہ مکتبہ فکر آنحضور ص کا روز ولادت 17 ربیع الاول کو مناتے ہیں جبکہ سنی مکتبہ فکر کے ہاں آنحضرت ص کا جشن ولادت 12 ربیع الاول کو منایا جاتا ہے، اسی وساطت سے امام خمینی رہ نے تمام مسلمانوں کو نبی آخرالزمان ص کا امتی ہونے کے ناتے ہفتہ وحدت منانے کی دعوت دی۔
امام خمینی رہ امت کو بیداری اور اتحاد و یگانگت کی ترویج کرتے ہوئے فرماتے ہیں:تمام اسلامی حکومتیں اس پر توجہ رکھیں کہ جو اختلافات عراق میں، ایران میں اور دوسرے ممالک میں کئے جا رہے ہیں، یہ وہ اختلافات ہیں جو ان کی ہستی کو تباہ کر دیں گے۔ آج آپ ملاحظہ کیجئے استکبار کی پالیسی فلسطینی کو فلسطینی سے لڑانا ہے، عراقی کو عراقی سے لڑانا ہے، شیعہ مسلمان اور سنی مسلمان کو لڑانا ہے، عرب سماج اور غیر عرب سماج کو لڑانا ہے۔ یہ واضح پالیسیاں ہیں، سب سے پہلے ہم سب ان چیزوں کا خاتمہ کریں، ہم اپنے لحاظ سے امت مسلمہ کے اتحاد کو ایک ضرورت سمجھتے ہیں۔ پورے عالم اسلام کے مدنظر کہا گیا ہے سارے مسلمان متحد رہنے چاہئیں، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے، یہ اسلامی حکومتوں کا فرض بھی ہے اور مسلم عوام کا بھی، نیز یہ کہ اسلامی حکومتیں اس بڑے اتحاد کی ایجاد کے لئے مسلم اقوام کی توانائیوں سے بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔
کچھ چیزیں